ابنا: نئي دہلي سے موصولہ خبروں ميں کہا گيا ہے کہ گذشتہ ايک مہينے سے رياست آسام ميں جاري فرقہ وارانہ فسادات ميں اب تک ستر سے زائد مسلمان مارے جاچکے ہيں اور تقريبا چار لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہيں-دو روز قبل بھي فساد زدہ علاقوں ميں بوڈو قبائل نے مزيد چار مسلمانوں کو گولي ماردي جس کے بعد کھوکرا جار اور ڈوبري جيسے متاثرہ علاقوں ميں حالات ايک بار پھر کشيدہ ہوگئے ہيں-اس سے پہلے ہندوستان کے وزير اعظم منموہن سنگھ نے فساد زدہ علاقوں کے اپنے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ آسام کے فسادات ہندوستان کي پيشاني پر بدنما داغ ہيں-جمعيت علمائے ہند کي دعوت ہونےوالے بدھ کے مظاہرے ميں شرکا نے آسام کے مسلمانوں کے قتل عام کي سخت الفاظ ميں مذمت کي اور حکومت سے مطالبہ کيا کہ ان واقعات کے ذمہ داروں کا پتہ لگا کر انہيں قرار واقعي سزا دے-جمعيت علمائے ہند نے اسي طرح اپنے ايک ميمورنڈ ميں جو وزير اعظم صدر جمہوريہ کانگريس کي سربراہ اور رياست آسام کے وزير اعلي کو بھيجا گيا ہے حکومت سے اس بات کا مطالبہ کيا ہے کہ وہ آئندہ اس طرح کے واقعات کي روک تھام کو يقيني بنائے اور موجودہ واقعات کے ذمہ داروں کو ہر حال ميں سزا دے.
.......
/169